ایک شہید کو بھینٹ

گیانی تیرا گیان تھا جھوٹا
امام ضامن؛ رکھشا بندھن؛
سب ہوءے بیکار
واشنا کی وجے ہوءی اور
پرجا کی پریت تھی ہاری
میں ابھاگن پریم پجاری
اور سارے جن ستیا کے بیری
بس ستا تھی راجکماری
جو سینا پتی کو بھاءی
اس نے ناگ کی روپ جو دھارا
ایسا وش دھرتی پہ اتارا
پکھشی بھی ہو گءے تھے کاری

بابل تو نے اکدن کہا تھا
بٹیا؛ مرتیو جو چھوءے گی مجھ کو
ہمالہ کے بھی نیر بہیں گے
کیا معلوم تھا اکدن بابل
راکھشسوں کو اکبار پھر سے
ایسی وجے ہوگی کہ امبر
لہو کے نیر بہاءے گا
اور پانی سلونا ہو کر بھی
نینوں سے بہہ نہیں پاءے گا

میں نے تو بابا سچ ہے بس
تیری ادھوری پریت نہارنا چاہی تھی
سنگدلوں نے پریت کو بھی
لہو لہو کر ڈالا بابل
پر بابا تیری راجکماری
کا وشواس نہیں ابھی ہارا
ماس کو چن چن کھانے والے
کاگا بھی یہ جانتے ہیں
سپنا مر نہیں سکتا ہے

تیری دھرتی کے سب رام؛ لکھشمن
کرشن؛ شیام ابھے اور وشنو
راون کے ناش کا سپنا لے کر
سمے کی آگ میں کودے ہیں
اب دیکھیں اس یگ کا بھگوان
کیسے ہمیں ہراتا ہے!

ماروی سرمد
29th Jan 2007

2 responses to “ایک شہید کو بھینٹ

  1. can you make font a little bit bigger???

    your blog is simple and good

  2. Marvi Sirmed

    Waqas ji, Thank you so much for reading and commenting. You are right, the font is a little problematic, will work on it. Thanks a mil to mention!

    Warm regards,
    Marvi

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s